برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں فلسطینیوں کے حق میں منعقد ہونے والے القدس مارچ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پولیس کی جانب سے دی گئی درخواست کو منظور کرتے ہوئے مارچ روکنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ اتوار کو ہونے والے ممکنہ مظاہرے کے دوران امن و امان کی صورتحال کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مارچ کے دوران بدامنی پیدا ہو سکتی ہے، اسی وجہ سے اس پر پابندی کی سفارش کی گئی۔
وزیر داخلہ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ یہ قدم ممکنہ بدامنی اور عوامی مسائل سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ہر سال نکالا جانے والا یہ مارچ بعض حلقوں کی نظر میں ایران کی حمایت سے جوڑا جاتا ہے، تاہم اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مظاہرین سخت شرائط پر عمل کریں تو انہیں کسی مخصوص مقام پر کھڑے ہو کر احتجاج کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن کے کمشنر فیصل بوڈی نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے ایک مایوس کن دن ہے۔
